نئی دہلی،15؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر نے یوم اطفال کے موقعہ پر اپنے طالب علمی کے دور دیکھی گئی فلموں کی بات بھی شیئر کی ، منگل کو یوم اطفال کے موقعہ پر بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اسکول کے دو رمیں بالغ فلمیں بھی دیکھی ہے ۔ کو دیکھنے کے لئے اسکول کے بچوں کے ساتھ بات چیت کے دوران بالی ووڈ کی فلمیں دیکھنے کی باتیں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا بچوں سے اشتراک بھی کیا ہے ۔ ایک طالب علم نے ان سے سوال کیا کہ وہ بلوغت کے ایام میں کس طرح کی فلمیں دیکھتے تھے تو اس کے جواب میں پاریکر نے کہا کہ ہم اس وقت کی فلمیں ہی نہیں دیکھتے تھے ؛بلکہ ہم اس وقت کی بالغ فلم بھی دیکھ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج آپ ٹی وی پر بہت سی ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں، جو پرانے فلموں میں بالغ فلم میں دکھایا جایا تھا ۔ پاریکر نے کہا کہ ایک مقبول ایڈیلٹ فلم تھی۔ میں اس وقت بالغ تھا، میں اور میرا بھائی دیکھنے گیا تھا ،وقفہ کے دوران، جب لائٹ جلی تو میں نے محسوس کیا کہ میرا پڑوسی میرے قریب ہی بیٹھا ہے۔ یہی پڑوسی اکثر شام کے وقت میری ماں سے بات کرتا تھا ، میں نے خود سے کہا کہ آج ہم مارے گئے ۔ گوا کے وزیراعلی منوہر پاریکرنے کہا کہ وہ اور اس کے بھائی نے فلم ادھوری ہی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ گھر جانے کے بعد ہم نے پہلے ہی اس بلا سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم گھر پہنچے تو میں نے اپنی ماں سے کہا کہ ہم فلم دیکھنے گئے تھے اور ہم نہیں جانتے تھے کہ فلم پورن ہے ، ہم نے فلم درمیان میں ہی چھوڑکر گھر آگئے ۔ میں نے بدیہی طور پر انہیں بتایا کہ ہمارا پڑوسی بھی وہاں تھا ۔انہوں نے کہا کہ اگلے روز ہمارے پڑوسی نے ہماری ماں کو بلایا اور کہا کہ منوہر اور اودھوت ایڈلٹ فلم دیکھنے گئے تھے۔ میری ماں نے ان سے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ وہ کون سی فلم دیکھنے گئے تھے، لیکن آپ کیوں کیا وہ فلم دیکھ رہے تھے؟ آپ کو بھی ذرا سوچ لینا چاہئے ۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو عمومی نشست میں اپنے بچپنے کی یاد تازہ کرنے کی کیا ضرورت تھی کیا موصوف کا یہ قدم درست ہے ؟َ ۔